اتوار 1 فروری 2026 - 10:10
ایران اور "جیو اور جینے دو" کی ایک محتاط حکمت عملی

حوزہ/ ایران کی یہ کامیاب حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب ایک ملک اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کرتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لیتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنی سلامتی کو یقینی بناتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی طاقت کا لوہا منوا دیتا ہے۔ ایران نے اپنے دفاعی شعبے میں کامیاب اقدامات اور "جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک قوت ہے جس سے ٹکرانا اب کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی | دنیا کی سیاست میں ایران ایک ایسا ملک ہے جس کے تعلقات عالمی طاقتوں کے ساتھ پیچیدہ اور متنازعہ رہے ہیں۔ خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کو بین الاقوامی سطح پر نہ صرف تنقید کا سامنا رہا بلکہ اسے اقتصادی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، ایران نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک محتاط حکمت عملی اپنائی ہے جسے "جیو اور جینے دو" کے فلسفے کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی ایران کے عالمی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ ایران اپنے مفادات کو تحفظ دے سکے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی امن کے لیے بھی ایک فعال کردار ادا کرے۔

لیکن مشرق سے مغرب تک کی ساری اسلام دشمن طاقتیں ایران کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، مگر یہ سوچ اور حقیقت جان کر سکون ملتا ہے کہ اسلام اور کفر کا ٹکراؤ کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ یہ ۱۴ سو سال پرانی تاریخ ہے۔ بدر، احد، خیبر اور خندق کی جنگوں میں شکست کھانے والے دشمن، اسلام کی دشمنی سے کیسے باز آ سکتے ہیں؟ عرب میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشوں کا آغاز ہو گیا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس لیے جیسے ماضی میں اسلام دشمنوں کو ناکامی کا سامنا ہوا، ویسے ہی آج بھی وہ شکست کے منہ میں جا کر دم لیں گے، کیونکہ:

الإسلام یَعْلُو وَلَا یُعْلیٰ علیہ-اسلام مٹنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے قائم رہنے آیا ہے۔

یہ ایسی خوش خبری ہے جس سے ہر نا امیدی ختم ہو جاتی ہے اور مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہر مسلمان ثابت قدم ہو کر یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ

توحید کی امانت، سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا، نام و نشاں ہمارا

"جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی

"جیو اور جینے دو" کا فلسفہ دنیا کے تمام ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ہر ملک کی خودمختاری اور مفادات کا احترام کرتے ہوئے عالمی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ ایران کے لیے یہ حکمت عملی نہ صرف اپنے داخلی مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے لیے اپنی جگہ قائم رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ ایران نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں تصادم سے بچتے ہوئے مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔ایران کے اس عمل سے اس کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی قوت آئی ہے جو امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کو چیلنج کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ "ہم سے ٹکراؤ گے تو جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔"

ایران کی خارجہ پالیسی کا پس منظر

ایران کی خارجہ پالیسی کا آغاز 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد ایک نئے دور میں ہوا، جب امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ انقلاب کے بعد ایران کے اسلامی نظام نے دنیا کے کئی ممالک کو چیلنج کیا، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کو۔ ایران کے جوہری پروگرام، حزب اللہ، حماس جیسے گروپوں کے ساتھ روابط اور خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش و بے چینی کا باعث بنا۔جو خود ان کی خودساختہ ہیں ۔

2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی) کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی ضمانت دی اور بدلے میں عالمی پابندیاں نرم کی گئیں۔ تاہم، 2018 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں ایران کو اپنی حکمت عملی دوبارہ ترتیب دینی پڑی۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات

ایران کی خارجہ پالیسی میں دوہرا رویہ رہا ہے—ایک طرف جہاں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ کر معاہدے کیے، وہیں دوسری طرف اس نے اپنے دفاعی مفادات اور قومی خودمختاری کا بھی سختی سے دفاع کیا۔ ایران نے کبھی بھی اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹا، چاہے اس کے سامنے اقتصادی پابندیاں ہوں یا عالمی تنقید کا سامنا ہو۔

چین اور روس کے ساتھ ایران کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایران کو عالمی سطح پر تنہائی سے بچانے کے لیے تعاون کیا ہے۔ یہ ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے خطے میں بڑھتے اثر و رسوخ کے لیے ایک طرح سے سپورٹ سسٹم فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی ہمیشہ ایک سنجیدہ کوشش کی ہے اوریورپ و امریکہ کے ساتھ مسلسل مذاکرات کی راہ بھی کھولے رکھی ہے۔لیکن اس بارسال2026 میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں "ڈبل اسٹینڈرڈ" یعنی دوہرا معیار اور آمرانہ پالیسی کے خلاف ایران نے اسے شسدر و حیران کراپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے جیساکہ داخلی اور خارجی اخباری تراشے اس بات کے گواہ ہیں کہ : ٹرمپ نے ایک بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ تہران مذاکرات اور کسی ممکنہ معاہدے کیلئے تیار ہے۔اور ایران مظاہرین کو پھانسی نہیں دے گا، اس لئے وہ حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے لیکن اس فرمان شاہی کے برعکس ایران جسے کیفرکردارتک پہنچانا تھا پہنچا دیا اور ٹرمپ کے سب سے طاقتور ابراہام لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ منہ تکتے ہی رہ گئے لہذا اگر یہ کہا جائے تو شاید حق بجانب ہوگا کہ:

تسبیح فتح پـا گئی تلوار رک گئی

طاقت بس اک فقیہ کے قدموں پہ جهک گئی

محتاط حکمت عملی کی کامیاب مثالیں

ایران کی حکمت عملی کی ایک اہم مثال 2015 کا جوہری معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم ہو گئیں۔ اس معاہدے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے باوجود عالمی برادری کے ساتھ ایک سنجیدہ اور محتاط حکمت عملی اپنائی۔

2019 میں جب ایران نے امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کا جواب بیلسٹک میزائلز اور دیگر اقدامات سے دیا، تو اس کے باوجود اس نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ کشیدگی بڑھنے کی بجائے مذاکرات کا دروازہ بند نہ ہو۔ ایران نے اس بات کو یقینی بنایا کہ عالمی سطح پر وہ ایک جارحانہ طاقت کی بجائے ایک توازن رکھنے والا کھلاڑی نظر آئے۔

ایران کی ٹیکنالوجی میں طاقتور ترقی اور امریکہ کے بھرم کا خاتمہ

امریکہ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، ایران نے اپنے دفاعی شعبے اور ٹیکنالوجی میں اتنی تیزی سے ترقی کی ہے کہ وہ اب عالمی سطح پر ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ خاص طور پر ایران کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت نے دنیا کے سامنے اس کی صلاحیتوں کو مزید نمایاں کیا ہے۔

ایران نے جوہری معاہدے کے بعد جب عالمی سطح پر دباؤ کا سامنا کیا، تو اس نے اپنی معاشی اور دفاعی طاقت کو خود انحصار کر کے استوار کیا۔ پابندیوں کے باوجود، ایران نے اپنے ٹیکنالوجیکل شعبے کو اتنا مستحکم کیا کہ آج وہ نہ صرف اپنے دفاعی اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب ہے، بلکہ وہ عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔مثال کے طور پر، اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کی دفاعی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا استعمال اس کی طاقت کا مظہر بن گیا۔ ایران نے اپنی جدید ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی کے ذریعے اسرائیل کو ایسی زبردست شکست دی کہ عالمی برادری بھی حیران رہ گئی۔ ایران نے نہ صرف اپنے دفاعی شعبے کو مضبوط کیا، بلکہ اس نے ثابت کر دیا کہ جب تک اس کے پاس یہ طاقتور ٹیکنالوجی موجود ہے، وہ کسی بھی عالمی طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا پیغام

اس جنگ نے ایران کا ایک اہم پیغام دنیا تک پہنچایا: "جو ہمیں چھیڑے گا، وہ چور چور ہو جائے گا۔" یہ پیغام نہ صرف اسرائیل کے لیے تھا بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی تھا، خاص طور پر امریکہ کے لیے جو ایران کو مسلسل ایک کمزور ملک سمجھتا رہا تھا۔ ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ اب وہ ایک عالمی طاقت ہے جس سے ٹکرانا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ اس کی جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں نے امریکہ اور اسرائیل سمیت تمام مخالفین کو یہ سمجھا دیا کہ ایران کی جانب سے "جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں۔

امریکہ کی طاقت کا بھرم چکنا چور

امریکہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر سب سے طاقتور ملک ہے اور اس کے اثر و رسوخ کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لیکن ایران کی اس کامیابی نے امریکہ کے اس بھرم کو چکنا چور کر دیا۔ ایران کی دفاعی کامیابیوں نے اس کے مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام دیا کہ ایران اب امریکہ کی عالمی طاقت کے مقابلے میں ایک ایسی قوت بن چکا ہے جس سے ٹکرانا کسی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل میں "جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی

ایران کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے "جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہنا ہو گا۔ اسی طرح سے یورپ، امریکہ اور ان کے حواری ملکوں کو بھی چاہیئے کہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کریں۔ کسی کے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں، کسی کے لیے رکاوٹیں پیدا نہ کریں اور کسی کی بھی حیثیت کو چیلنج نہ کریں۔

ایران کے لئے اس حکمت عملی پر قائم رہنا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کے دفاع کے ساتھ ساتھ دنیا کے باقی حصوں کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ صرف اپنی طاقت پر انحصار کر کے دنیا میں کوئی بھی ملک اپنی عزت اور آزادی کو برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کو عالمی سطح پر امن کا داعی بن کر اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہو گا۔

نتیجہ

ایران کی یہ کامیاب حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب ایک ملک اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کرتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لیتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنی سلامتی کو یقینی بناتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی طاقت کا لوہا منوا دیتا ہے۔ ایران نے اپنے دفاعی شعبے میں کامیاب اقدامات اور "جیو اور جینے دو" کی حکمت عملی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک قوت ہے جس سے ٹکرانا اب کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔

اصولوں پر جہاں آنچ آئے، ٹکرانا ضروری ہے

جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha